بعد مدت کے زندگی سے ملی
₨ 1,000.00 ₨ 999.00
مجھ جیسی فطرتاً خاموش طبع کو قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ وہ پہلی ملاقات صرف ملاقات نہیں ہوگی بلکہ دماغ کی پچھلے جانب جو دنیا ہوتی ہے اس کی طرف ایک دروازہ ہوگی ۔ وہ دنیا جہاں سوالات کے بڑے بڑے پہاڑ ہیں ،سوچوں کے گھنے جنگل ہیں، خواہشوں کی ندیاں بہتی ہیں اور وسوسوں اور خدشات کی خود رو جھاڑیاں ہیں ۔جہاں ہر وقت کیوں ،کب اور کیسے کی آوازیں گونجتی ہیں ۔ مجھ جیسا انسان جسے رازوں کے پیچھے بھاگنے کی جستجو ہے ، بولنے سے زیادہ سننے کی جستجو ہے کیونکہ جب انسان خاموش ہوتا ہے تو دراصل وہ اندر کے شور کو سنتا ہے اور جب آپ کو کسی کیوں کا جواب مل جائے تو اندر برپا مد و جزر کو سکون ملتا ہے ۔ جب انسان کسی نقطے پر پہنچ جائے تو ایسا لگتا ہے جیسے زندگی کا کوئی سرا ہاتھ لگ گیا ہو ۔
بقول اقبال رحمۃ اللہ علیہ
خرد کی گتھیاں سلجھا چکا ہوں
مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر
اگر میں لاہور میں ہوتی اور تکیہ تارڑ کی نشست میں بیٹھنے کا موقع روز ملتا تو میں روز مرشد سے سوالات کرتی ان پر تحقیق کرتی اور دیوان پہ دیوان لکھتی ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں روز ایسے لوگوں کی محفلیں نصیب ہوتی ہیں جن کے پاس زندگی کے راز ہیں تجربے اور مشاہدے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مرشد کو سلامت رکھے آمین
Related products
انووک
تیرے دل میں
سماج سیاحت اور شعور اجتماع
کھلے دریچے
ناول:درد وچھوڑے دا
جنت کا نغمہ
اعتبار نسل
سماج ٫سیاحت اور شعور اجتماع
اگر آپ کی مطلوبہ کتاب ہماری ویب سائیٹ پر نہیں موجود تو براہ مہربانی ہمارے واٹس ایپ نمبر 0324 4401019 پر رابطہ کریں- شکریہ Dismiss

Reviews
There are no reviews yet.