FREE SHIPPING FOR ALL ORDERS OF 3000
FREE SHIPPING FOR ALL ORDERS OF 3000
  • Home
  • Yasir Publications
  • New Arrivals
  • Catalogue
    • Online Book bazar
    • Upcoming Boooks
  • Port folio
  • Blog
Login / Register
Wishlist
0 items / ₨ 0.00
Menu
0 items / ₨ 0.00
yasir publications
Home Yasir Publications ابریشم
yasir publications
ابریشم ₨ 1,200.00
Back to products
یاسر پبلیکیشنز
جھیل دودی پت سر)برفوں کی شہزادی) ₨ 700.00

ابریشم

Rated 5.00 out of 5 based on 3 customer ratings
(3 customer reviews)

₨ 1,200.00

Add ₨ 3,000.00 to cart and get free shipping!
Compare
Add to wishlist
Categories: Catalogue, Online Book Bazar, Shop Books, Yasir Publications
Share:
  • Description
  • Reviews (3)
  • Shipping & Delivery
Description

سلمان باسط کا دل کو چھو لینے والا شعری مجموعہ “ابریشم” اب قارئین کے لئے حاضر ہے، جس میں شامل محبت بھری نظمیں اور روح میں اترتی غزلیں آپ کو احساسات کی ایک نئی دنیا سے روشناس کروائیں گی۔

“ابریشم” محض ایک کتاب نہیں، یہ دل کی دھڑکنوں، ادھورے خوابوں اور مکمل محبتوں کا حسین سنگم ہے۔ اگر آپ بھی محبت کو ایک مختلف انداز اور نئے لطف کے ساتھ جینا چاہتے ہیں تو یہ مجموعہ آپ کے لئے ایک لازمی انتخاب ثابت ہوگا۔

اب پڑھئے… محسوس کیجئے… اور محبت کو ابریشم کی طرح نرم ہونے دیجئے ۔دو سو تین صفحات پر مشتمل، اعلیٰ آرٹ پیپر پر چھپا ہوا، دیدہ زیب صفحات اور دلکش سرورق کے ساتھ شعری مجموعہ “ابریشم” آپ کے ذوقِ مطالعہ کو ایک نیا حسن بخشے گا۔

اس شاہکار کی کل قیمت صرف بارہ سو روپے ہے، اور سب سے خاص بات… فری ہوم ڈیلوری کے ساتھ آپ تک پہنچایا جائے گا۔
محبت کی خوشبو میں ڈوبی یہ شاعری، نفاست سے سجے صفحات اور دل کو بھا لینے والا ٹائٹل، اسے آپ کی لائبریری کی شان بنا دے گا۔

تو دیر کیسی؟
آج ہی آرڈر کریں اور اس شاندار مجموعے کو اپنے ادبی خزانے میں شامل کر کے احساسات کے ابریشمی لمس کو ہمیشہ کے لئے اپنے پاس محفوظ کر لیں۔

 

Reviews (3)

3 reviews for ابریشم

  1. Rated 5 out of 5

    admin – May 11, 2026

    ابریشم۔۔۔۔۔ کچھ منظر حیرانی کے

    سلمان باسط کے نئے شعری مجموعے” ابریشم” کا مسوّدہ میرے سامنے ہے، اسے بار بار پڑھنے کے باوجود اس کا سِرا میرے ہاتھ میں نہیں آ رہا اور ایوب خاور کا یہ شعر مجھے رہ رہ کر یاد آ رہا ہے:
    ہاتھ اُلجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں
    اب بتا کون سے دھاگے کو جُدا کس سے کریں
    اچھّی شاعری بھی اُلجھے ہوئے ریشم کی طرح ہوتی ہے،خاص طور پر جب شاعری شاعر کا پیشہ نہ ہو
    passion ہو اور شعر تب کہا جائے جب شعر کہے بغیر مفر نہ ہو۔
    سلمان باسط نے ایک زمانہ ملک سے باہر بِتایا ہے۔اُن کی شخصیت اور تہذیبی مزاج کو سمجھنے کے لیے اُن کی آپ بیتی”ناسٹلجیا” کا مطالعہ ضروری ہے۔وہ ایک بہت ہی عزت دار اور متوازن شخصیت کے حامل شخص ہیں اور دُنیا بھر میں گھومتے رہنے کے باوصف تواضع اور مُنکسر مزاجی کا پیکر ہیں۔وہ دِلدار ہیں اور دل رّبائی کرتے ہیں۔متلف زبانوں میں براہِ راست اظہار کا ملکہ رکھتے ہیں۔شاعری پڑھتے اور پڑھاتے ہیں۔عربی اور انگریزی پر قابلِ رشک دسترس کے باعث عالمی ادبی تحریکوں اور فکری منہاج کے نبض شناس ہیں ۔انسانوں،اقوام اور موسموں کی باطنی کیفیات کو پہچانتے ہیں۔اس لیے اُن کی شاعری اُن کی ذات کا پرتو ہے۔اسے پڑھتے ہوئے مجھے بار بار احساس ہوا کہ بظاہر معمول کی ان باتوں کے غیاب میں کچھ مختلف ہے،کچھ ایسا جو ہماری اردو شاعری کی عمومی روایت کا حصہ نہیں رہا اور اگر رہا ہے تو اب موجود نہیں۔ایک دل پذیر تاثر پیدا کرتی کوئی خاص چیز جو زبان اور اظہار کی سطح پر انتہائی بے ساختگی لیے ہے اور معنوی طور پر اس قدر شگفتہ کہ خود بخود وجدان میں اُترتی چلی جاتی ہے۔کسی ایسے تخلیقی جمال کی طرح جس نے پہلے کبھی اپنے آپ کو ظاہر نہ کیا ہو،جو اس سے پہلے کسی سخت خول والے خوش ذائقہ پھل کی طرح ہمارے گرد کہیں موجود تو تھی مگر زبان تک نہیں پُہنچی۔
    “ابریشم” کی نظموں اور غزلوں کی پہلی صفت اُن کی روانی ہے۔انھیں بار بار پڑھتے ہوئے میں دیر تک اُس جادو کے زیرِ اثر رہا جس نے جذبے اور اظہار کی دوری کو مٹا کر ایک ایسا اُسلوب وضع کر دیا ہے جو ہمارے موجودہ شعری منظر نامے سے کم و بیش عنقا ہو چکا ہے،یعنی زبان اور موضوع کی ایسی موانست کہ شعری فن پارہ پڑھتے ہوئے یہ احساس ہی نہ ہو کہ اسے تخلیق کرتے ہوئے شاعر نے کس درجے کی فنی ریاضت سے کام لیا ہے اور کتنی شعری مہارتوں کی اپنی حیثیت ایک نئے مظہر کا حصہ بن کر کس طرح غیر اہم ہو گئی ہے۔کسی ادبی فن پارے کی سب سے بڑی خوبی یہی ہوتی ہے کہ آپ کو زبان کی سطح پر یہ احساس ہی نہ ہو کہ مصنف کی لفظیات اور موضوع کو اظہار کی سطح پر یکجان کرنے کی رمز ہے کیا؟
    یہ معجز بیانی صرف اُس وقت جنم لیتی ہے جب تخلیقی وجدان اس قدر توانا ہو کہ لوہے کی سلاخ کو بھی شعر بنا سکتا ہو۔سلمان باسط کی کم و بیش ساری شاعری اس معجز بیانی کی توسیع ہے۔
    تحیّر کا سمندر ہر طرف ہے
    نہیں کُھلتا جو منظر ہر طرف ہے
    میں اک جا مستقل رہتا نہیں ہوں
    مری منزل،مرا گھر ہر طرف ہے

    بھولا ہوا تھا کام،مجھے یاد آ گیا
    وہ شخص آج شام مجھے یاد آ گیا
    کچھ دیر تو ہوا سے میری دوستی رہی
    پھر وہ سُبک خرام مجھے یاد آ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جانے کیا بات تھی
    حجلۂ دل میں بھڑکی ہوئی آگ تھی
    درد کی آنچ سے جل رہا تھا
    مرے خواب زاروں کا سارا جہاں
    بے کلی کے شراروں سے اُٹھتا دھوآں
    روح کی وادیوں میں اُترتا ہؤا
    کس قدر سرد تھا
    ٹمٹماتے ہوئے آرزو کے دیے کا بدن زرد تھا
    ہجر جوبن پہ تھا
    کاسنی،چمپئی،سرخ رو،قرمزی
    غم کے پھولوں پہ کیسی بہار آئی تھی
    اُن کی مدہوش کُن سی مہک سے مّعطّر
    مرے شوق کی ذات تھی
    کتنی بے چین سی آج کی رات تھی
    میں اپنی بات کے حق میں بہت کچھ نقل کر سکتا ہوں مگر اس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے میں سلمان باسط کی شاعری کی ایک اور خصوصیت کا ذکر کرنا ضروری جانتا ہوں۔وہ یہ کہ سلمان باسط کی شاعری کا عمومی تاثر حِسّی شاعری کا ہے مگر اس کی بُنیاد باطن سے زیادہ مظاہر پر ہے اور وہ متنوع رنگوں کی ایک وسیع کائنات کے توسط سے اپنی بوقلمونی کا اظہار کرتی ہے۔مندرجہ بالا نظم پر ہی ایک نظر دوبارہ ڈالیے تو غم کے پھولوں کو اتنے رنگوں میں آپ نے کسی اور شاعر کے یہاں کاہے کو دیکھا ہو گا۔ہمارے تہذیبی رنگوں میں غم کا ایک ہی مخصوص رنگ ہے سیاہ یا کہیں اسے زرد رنگ کے کنایے میں بیان کیا جاتا ہے۔یہ اس لیے کہ ہم نے غزل کی صنف کو فارسی زبان کی راہ سے قبول کیا ہے اور ایرانی تہذیب کے استعارے اور علائم ہماری شعری روایت میں اس طرح گُھل مل گئے ییں جس طرح بھگتی تحریک میں ایشور کا کائنات میں ضم ہونے یا حلول کرنے کا تصوّر،جس کی ایک صورت نظریہ وحدت الوجود میں بھی دکھائی دیتی ہے مگر سلمان باسط کے یہاں اسے متعدد رنگوں میں شناخت کیا گیا ہے کیوں کہ اُس کا مشاہدہ ایران و توران تک محدود نہیں۔وہ جہاں گرد ہے اور عالمی گاؤں کا فرد یے۔اُس نے مشرق کی بہار اور مغرب کی خزاں دیکھی ہے،صحرا کے دن اور رات کا مشاہدہ کیا ہے اور پتھّر ہوئے پانیوں کے سلسلے کاٹ رکھے ہیں سو اس کے یہاں وصل،مسرت ہجر،غم اور اُداسی کسی مخصوص رنگ کے اسیر نہیں۔موسم اور مقام کی نسبت سے اپنے تنوّع کو ظاہر کرتے ہیں۔ایک ننھی سی نظم”معمہ” دیکھیے:-
    ہماری یاد کا جھونکا
    تمہارے دل کے آنگن میں کِھلے
    ست رنگ خوابوں
    کاسنی خوشیوں
    گلابی آرزؤں کو
    اچانک چُھو گیا اک دن
    تو خوشبو کون روکے گا؟
    نظم میں نرگسیت کی ایک معصوم سی دمک نے ساری نظم کی فضا کو بدل دیا ہے،جسے رنگوں کی سیمیائی شگفت اور پُرلطف بناتی ہے۔مجھے کہنے دیجیے کہ اس نظم میں یہ بات پیدا نہیں ہو سکتی اگر محبوبہ کے دل کا آنگن کسی ایک رنگ کا خزینہ یوتا۔
    سلمان باسط کی شاعری فطرت سے بہت قریب ہے۔یہاں فطرت کا لفظ میں نے وسیع تر معنوں میں استعمال کیا ہے۔ persona اور Nature کی دُنیاوں کے لیے.اُس کی غزل کو اگر آج کی غزل کے مقابل رکھ کر دیکھا جائے تو یہ کسی بھی مقبول عام یا نامقبول موضوعی سلسلے کی توسیع نہیں بل کہ اس کا اپنا ہی ایک الگ رنگ اور ذائقہ ہے جس کا مرکز و محور محبت ہے اور یہ محبت اپنی حقیقت میں وقت اور عمر کی قید سے آزاد ایک مستقل اور لازوال احساس ہے جو بار بار اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے اور پلٹ پلٹ کر خود کو ظاہر کرتا ہے۔
    سلمان باسط نے ناسٹلجیا لکھی تو کھوئی ہوئی تمام نعمتوں کا بڑی دل سوزی سے ذکر کیا مگر اِس نعمت کا نہیں جو اُن کے شاعر ہونے کا سبب بنی۔یہ کام انھوں نے اس کتاب “ابریشم” میں کیا ہے۔دراصل موضوع اپنی ہئیت کا انتخاب خود کرتا ہے مگر بعض اوقات ہم موضوع کو کھینچ تان کر اپنی مرضی کا لباس پہننے پر مجبور کرتے ہیں۔اس امر کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں مگر میں کوئی پینڈورا باکس نہیں کھولنا چاہتا۔سلمان باسط نے خود کو ندی کے رخ پر تیرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا ہے۔ایک ایسے مہا تیراک کی طرح جو تیر رہا ہو مگر دیکھنے والوں کو اس کی تیراکی پر ڈوبنے والے کی بے بسی کا گمان ہو۔سلمان باسط کی غزل ہو یا نظم قاری کو ساتھ لے کر بہتی ہے۔اس لیے بیانیے پر تصنّع کا شائبہ تک نہیں پڑتا اور بہاؤ کی رفتار یکساں رہتی ہے۔ایک مثال دیکھیے:-
    کسے ہم بتائیں!

    زمستاں کے دن اور برفیلی راتیں
    بدن چھیدتی،چِیرتی یخ ہوائیں
    یہ دُھند اور کُہرا
    یہ بے پیرہن سی درختوں کی شاخیں
    زمیں پر بچھی نقرئی نرم چادر
    وہ خالی نشتیں
    نشستوں پہ گرتے ہوتے خشک پتّے
    کسے ہم بتائیں
    کہ یادوں کی زنبیل سے دُکھ جھڑیں
    تو اذیّت کی آری بہت کاٹتی ہے

    اس نظم کا منظرنامہ فال( خزاں/ برفباری) کا ہے اور یورپ کے منظروں کی یاد دلاتا ہے۔اس نظم کی ساری فضا کو جس سلیقے سے تعمیر کیا گیا ہے اور درختوں اور آری کے تلازمے سے درد کی جو کیفیت پیدا کی گئی ہے وہ صرف شاعری نہیں۔ایک دل سوز تجربے کی متحرک تصویر کشی ہے۔جسے بیانیے کی روانی اور زبان کی موانست نے بھرپور بنا دیا ہے۔
    سچ پوچھئیے تو سلمان باسط کی شاعری مصوری ہی کا کوئی اساطیری رنگ ہے۔قدیم زمانے کے انسان نے اپنے احساس کو اجنتا اور ایلورا کی صورت میں منقش کیا تھا۔سلمان باسط نے یہ کام”ابریشم” کے پردے پر کر دکھایا ہے۔فرق ہے تو اتنا کہ وقت کے ساتھ ساتھ،محبت کے مرکزی تصور کے گرد سلمان باسط نے باہر کی دُنیا کا ایک گُنجھلک مونتاج چسپاں کر دیا ہے جو زمانے کی بدلتی ہوئی ماہیت سے جُڑا ہوا ہے اور بتاتا ہے کہ شاعر کس طرح کی دُنیا میں جی رہا ہے اور وقت کے ساتھ اس کی سوچ میں کیا تبدیلی رُونما ہو رہی ہے۔
    چالیس برس تک چلتا ہے اک روشن دور جوانی کا
    پھر اگلے کوس پہ آ جاتا ہے اک منظر حیرانی کا

    تم کتنے بند بناؤ گے،ٹوٹے گا ضبط کا ہر پُشتہ
    سب درد بہا لے جائے گا سیلابی ریلا پانی کا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
    تو بھلا ہم بھی معدوم ہونے کو ہیں
    جو لکھا،جو کہا
    جھاڑ جھنکار ہے؟
    خاروخس ہے سبھی
    شعر جو بھی کہے
    جتنی نظمیں لکھیں
    نثر جتنی بّنی
    سب تھا کارِ عبث؟
    سنگ ریزے چُنے،خواب جتنے بُنے
    کیا یہ سب تھا فقط تمتشنگی کے لیے
    باریابی مقدر میں تھی ہی نہیں؟
    سب ہی چُھپ جائے گا
    وقت کی گرد میں؟
    موجۂ درد میں
    کاہشِ سرد میں
    سوچ بھی حرف بھی
    شعر بھی نثر بھی
    لفظ بھی اور اس کی تاثیر بھی
    خواب بھی اور اس کی تاثیر بھی
    اے نگارِ جہاں تُو سلامت رہے
    ہم تو حرفِ غلط تھے
    سو مِٹ جائیں گے
    سب کہی، ان کہی ساتھ لے جائیں گے
    “ابریشم” پڑھ کر مجھے پبلو نیرودا کی کتاب” Twenty love poems & a song of despair” یاد آ گئی۔نیرودا کی طرح سلمان باسط نے موسموں،رنگوں اور تاثیر سے بھرے لفظوں میں محبت کے مختلف ادوار کی تصویر کشی کرنے میں فراغ دلی دکھائی ہے تو اس میں کہیں کہیں حزن کا رنگ بھی در آتا ہے اور کیوں نہ در آئے کہ سچے عاشق کو وصال کے لمحوں میں بھی ہجر کا دھڑکا بے چین رکھتا ہے مگر سلمان باسط کا دھڑکا رقیب کے وجود اور خوف سے پاک ہے۔یوں بھی اس شدت سے محبت کرنے والے اس دھڑکے سے بے نیاز ہی ہوا کرتے ہیں کہ انھیں محبوب کی ذات کے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔
    میں نے کہا تھا”ابریشم” اُلجھے ہوئے دھاگوں کی پوٹلی ہے کہ اس میں زندگی بھر کے یادگاری لمحات ایک دوسرے سے جُڑ گئے ہیں جو غور سے دیکھنے پر بھی ایک دوسرے سے الگ پہچان میں نہیں آتے مگر انھیں الگ کرنے کی ضرورت بھی نہیں،کیوں کہ ہر چیز کا کیمیائی تجزیہ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔اس لیے آپ بھی اس کتاب کی تاثیر کا لطف اُٹھائیے اور اس کے تازہ رنگوں میں نہا کر ایک بار پھر نئے ہو جائیے۔

    غلام حسین ساجد

  2. Rated 5 out of 5

    admin – June 19, 2026

    سلمان باسط سے میرا تعلق چار دہائیوں سے اوپر ہو چلا ہے۔ اس تعلق کے پس منظر میں دوستی، ادب اور مشترکہ تخلیقی وابستگیوں کی ایک پوری دنیا آباد ہے۔ اس دنیا میں ایک روشن نام رؤف امیر کا بھی تھا:
    ہر قدم پر امیر، اس طرح ٹھہرنا، سوچنا کس لیے
    وقت چھلنی ہے اور اس میں پانی نہ پُن ، ہم سفر بات سن
    ہمیں تھام تھام کر اپنی بات سنانے والےروف امیر ہماری یادوں کا حصہ ہو گئےہیں، اور ان کی یاد آج بھی ان تعلقات میں نہ صرف خوشبو کی طرح موجود ہے ، ہمارے تعلق کو جہتیں اور معنویت میں وسعت کا وسیلہ بھی ہے۔ وقت گزرتا رہا ہے، فاصلے بڑھتے اور کم ہوتے رہے ہیں، مگر اس وسیلے کے بعد سلمان باسط کی شخصیت کے اپنے اوصاف بھی اپنا انفرادی رنگ جماتے رہے ہیں ۔ شائستگی، متانت اور ایسی نرم خوئی ،ان کے مزاج کا بنیادی حوالہ ہیں اور انہی رنگوں سے ان کی رس دار شخصیت بنی ہے۔
    مجھے یاد ہے جب ان کی شاعری سے پہلی بار تعارف ہوا تو ’’جھیل میں کنکر‘‘ سامنے آئی تھی، ایک ایسی کتاب جس میں دو بھائیوں نے تخلیقی شرکت کی تھی۔ بعد میں ان کی خامشی اور ملک سے دور جاکر اپنی ترجیحات بدل لینے سے ،ہم نے شایدنہیں سوچا ہوگا کہ یہ ’’آدھی کتاب والا شاعر‘‘ایک دن اپنی شاعرانہ شناخت کی طرف لوٹے گا اور ’’ابریشم‘‘ جیسا مکمل شعری مجموعہ لے آئے گا۔
    ایسا گماں باندھنے کا سبب یہ رہا ہوگا کہ سلمان باسط محض شاعر نہیں وہ خاکہ نگار بھی ہیں ، مترجم بھی، اور یادوں کو تخلیقی متن میں ڈھالنے والے نثر نگار بھی۔کئی برس پہلے ’خاکی خاکے ‘ کی اشاعت سے مجھے یوں لگا تھا جیسے نثر ان کی ترجیحات میں اوپر ہو گئی تھی۔حال ہی میں ان کی کتاب ’’ناسٹلجیا‘‘ نے اس خیال کو اور پختہ کیا ۔ یہ وہ جادوئی نثر والی کتاب ہے جس نے واضح کر دیا تھا کہ ان کے لیے ماضی محض گزرا ہوا وقت نہیں بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے جو حال میں سانس لیتا ہے۔ خیر اب ان کی شاعری کا مجموعہ آیا ہے تو مجھے لگا وہی نثر والا وصف ان کی شاعری میں بھی منتقل ہوا ہے۔ اس اعتبار سے ’’ابریشم‘‘ کو ’’ناسٹلجیا‘‘ کا شعری تسلسل بھی کہا جا سکتا ہے۔
    ہر شام خیال کے آنگن میں اک یاد کا پھول نکھرتا ہے
    تادیر مہکتا رہتا ہے پھر پودا رات کی رانی کا
    ’’ابریشم‘‘ کا ایک بڑا حوالہ انہی یادوں کی مہک ہے۔ یہ یادیں فرد کی نجی بھی ہیں، وقت کی اجتماعی بھی اور گزرتے ہوئے لمحوں کی بازیافت بھی۔ ’’پھر اس کے بعد کا عرصہ‘‘، ’’آخری میٹنگ‘‘، ’’کبھی لیکچر تھیٹر میں‘‘، ’’ناسٹلجیا‘‘، ’’مہربان لمحوں کے نام ایک نظم‘‘ اور ’’ہم وہی لوگ ہیں‘‘ جیسی نظمیں اس تجربے کو مختلف زاویوں سے برتتی ہیں۔ یہاں ماضی ایک کھوئی ہوئی جنت نہیں بلکہ انسانی شناخت کا حصہ ہے۔ اس یادمیں حسرت سے زیادہ تفکر ہے۔ وہ گزری ہوئی چیزوں پر نوحہ نہیں کرتے بلکہ ان کے معنوں کو دریافت کرتے ہیں۔
    بانو قدسیہ نے قدرت اللہ شہاب کو ’’مردِ ابریشم‘‘ کہا تھا۔ سلمان باسط نے اپنے مجموعے کا نام ’’ابریشم‘‘ رکھا ہے تو یہ محض ایک ملائم لفظ کا انتخاب نہیں۔ ابریشم نرمی، لطافت، ربط اور باطنی تہذیب کی علامت ہے۔اور لطف یہ ہے کہ یہ لفظ ان کی شخصیت اور شاعری دونوں کا استعارہ بن گیا ہے۔ ان کے ہاں نہ لہجے کی درشتی ہے، نہ اظہار کا شور، نہ معنی آفرینی کا تصنع۔ وہ آہستہ بولنے والے شاعر ہیں اور ان کی شاعری بھی دھیمے سروں میں اپنا اثر قائم کرتی ہے۔
    کتاب کے آغاز میں حمد، نعت اور مناجات کا شامل ہونا محض رسمی ترتیب نہیں۔ ’’شوقِ زیارت کی کشتی‘‘، ’’اب کے میں روضۂ سرکار سے ہو آیا ہوں‘‘، ’’محمد ﷺ کا آخری خطبہ‘‘ اور ’’لا تثريب عليكم اليوم ‘‘ جیسی نظمیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سلمان باسط کی روحانی وابستگی محض عقیدت کے اظہار تک محدود نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور تہذیبی شعور میں ڈھلتی ہے۔ ان نظموں میں مذہبی جوش سے زیادہ انسانی وقار، رحم، عفو اور خود احتسابی کی فضا ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں روحانیت وعظ میں تبدیل نہیں ہوتی بلکہ ایک باطنی مکالمے کی صورت اختیار کرتی ہے۔اقبال نے کہا تھا، اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی، سلمان باسط کی کئی نظمیں اسی من میں ڈوبنے کا قرینہ اور باطنی جستجو کا تسلسل ہیں ۔ ’’تذبذب ‘‘(عقیدے کا فسوں/تاریخ کے مبہم حوالے/اور کچھ مذہب کے پردے میں جنوں کی کارفرمائی /یہ سب عفریت مجھ کو وقت کی ترتیل کرنے ہی نہیں دیتے)، ’’مناجات‘‘ (خدا وندا ! تری اقلیم میں رہتے ہوئے اک عمر گزری ہے/مگر اب تک طریق بندگی مجھ کو نہیں آیا)، ’’رائیگانی‘‘(ہم تو حرف غلط تھے/سو مٹ جائیں گے/سب کہی ان کہی /ساتھ لے جائیں گے)، ’’مراجعت‘‘(اے مری شام ابد/میں تری آواز پر لبیک کہتا آرہا ہوں) اور ’’توجیہ‘‘ (کبھی کچھ بھی نہیں ہوتا/مگر پھر بھی تعلق ٹوٹ جاتا ہے/بھلا قطع تعلق کی کوئی توجیہ کیسے ہو) جیسی نظمیں انسان کے اندر برپا ہونے والے ان سوالات کا شعری اظہار ہیں جو عمر، تجربے اور خود شناسی کے ساتھ جنم لیتے ہیں۔ یہاں سلمان باسط دنیا کو کم اور اپنے آپ کو زیادہ مخاطب کرتے ہیں۔
    فطرت ’’ابریشم‘‘ کا ایک اور نمایاں حوالہ ہے۔ ’’ساون موڑ مہار‘‘ میں ملہار گاتی بوندوں کے ساتھ ہر خواہش پر بُور آنے لگتا ہے۔ ’’مری کے راستے پر‘‘سے روشن اور چمکیلے دن سے ملاقات ہوتی ہے تو یادوں کا البم کھلتا ہے اور آنکھوں کے گوشے بھیگ جاتے ہیں ، ’’زمستاں کے نام ایک نظم‘‘ میں جاڑہ گئے دنوں کی سوغاتیں لے کر آگیا ہے اور نظم ’’چھتنار‘‘ اس گھنے پیڑ کی یاد میں ہے جو زمین بوس ہوچکا ہے اور جس کے نہ ہونے سے تپتے دنوں کی لُو سے اور راتوں کو ہجر کی آگ میں جھلسنا ہوتا ہے۔ یہ اور ان جیسی نظموں میں فطرت محض منظر نگاری نہیں بلکہ داخلی کیفیات کی توسیع بھی ہے۔ سبزہ، بارش، دھند، پہاڑ، چیڑ، شاداب پیڑ، پرندوں کی آوازیں اور بدلتے موسم شاعر کے احساسات کے ساتھ ایک حیاتیاتی رشتہ قائم کرتے ہیں۔ فطرت کے یہ مناظر ان کے ہاں محض خوب صورتی کا سامان نہیں بلکہ یاد، تنہائی اور آرزو کے استعارے بھی ہیں۔
    اگر اس مجموعے کا مرکزی حوالہ تلاش کیا جائے تو وہ محبت ہے۔ ’’اے رخِ یار‘‘ (نور چھن کر ترے پیکر کی تنک تابی سے /میری بے نور سی دنیا کو منور کر دے)، ’’تم آ جاؤ‘‘(تم آو تو بجھتے دیپ بھی جل سکتے ہیں /دل کا کارنس پھر پھولوں سے سج سکتا ہے)، ’’سامنے سے گزرے ہو‘‘(اتنے اجنبی بن کر/سنگ ِ بے حسی بن کر /مڑ کے بھی نہیں دیکھا)، ’’کیسی لگتی ہو‘‘(سارے روپ بسے ہیں دل میں /آئینے میں جھانک کے دیکھو/ کیسی لگتی ہو)، ’’مجھے تم سے محبت ہے‘‘(تمہارے پیار کی موجیں /مرے دل کے سمندر پرہمیشہ سے ہی رقصاں تھیں)، ’’میں کس طرح تم کو بھول جاؤں‘‘(تمہاری چاہت کے تیز دریا نے/جب سے دھارا بدل لیا ہے / میں خشک ، بنجر زمین بن کروہیں پڑا ہوں)، ’’سرگوشی‘‘(تم نے جو سرگوشی کی ہے/میرے کانوں نے سن لی ہے)، ’’تیری آواز کھنکتی ہے مرے کانوں میں‘‘(سُر کسے کہتے ہیں اور تال ہے کیا/یہ تو معلوم نہیں /اتنا معلوم ہے بس/ تیری آواز کھنکتی ہے مرے کانوں میں )، اور خصوصاً ’’اظہارِ محبت اک پہاڑی راستہ ہے‘‘( اسے کیسے بتاوں میں /کہ اظہار محبت اک پہاڑی راستہ ہے) جیسی نظمیں اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ ان کی شاعری کا بنیادی حوالہ محبت ہی ہے۔
    تاہم یہ محبت محض جذباتی یا سطحی رومانی تجربہ نہیں۔ اس کے ساتھ فاصلہ، انتظار، ہجرت، عدم دستیابی اور وجودی تنہائی بھی جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محبت کے ساتھ ساتھ تشنگی بھی ان کی مستقل لفظیات میں شامل ہے۔ ان کے ہاں خواہشِ وصل کے ساتھ محرومی کا شعور بھی موجود رہتا ہے۔
    غزلیات کے حصے میں وہ روایت سے مکالمہ کرتے ہیں۔ عشق، زلف، چاند، دل، درویشی، استغنا، وفا، ہجر، وصل، خواب، آزار، تشنگی اور حیرت جیسی لفظیات بار بار سامنے آتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام لفظ اردو غزل کی کلاسیکی روایت سے آئے ہیں مگر شاعر انہیں اپنے تخلیقی اور فکری تجربے سے جوڑ دیتا ہے۔
    ہے یہ دنیا مرے مطلب کی نہ میں دنیا کا
    میں نے اس گرمیٗ بازار سے کیا لینا ہے
    عشق گر ہے تو جلائے مرے اندر کے چراغ
    ورنہ اس مفت کے آزار سے کیا لینا ہے

    سلمان باسط کی غزل میں ایک مہذب داخلیت ہے۔ ان کے ہاں خودنمائی نہیں، خود آگہی ہے۔ وہ محبت کو بازار، سود و زیاں اور لین دین کے مقابل ایک اخلاقی قدر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ درویشی اور استغنا کی لفظیات بھی اسی فکری رویے کا حصہ ہیں۔
    سلمان باسط مشکل پسندی کے قائل نہیں۔ وہ علامت کو معمہ نہیں بناتے اور استعارے کو دھندلا نہیں ہونے دیتے۔ ان کے ہاں سادگی ہے مگر سادہ لوحی نہیں؛ روانی ہے مگر سطحیت نہیں؛ اور جذبہ ہے مگر جذباتیت نہیں۔ یہی وصف انہیں ان شاعروں سے الگ کرتا ہے جو پیچیدگی کو شاعری کا لازمی جزو سمجھتے ہیں۔
    چوالیس برس کے وقفے کے بعد سامنے آنے والی یہ کتاب محض ایک شعری مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسے تخلیقی سفر کی بازیافت ہے۔ جس میں شاعری نے سلمان باسط کو گاہے گاہے چھیڑ کر اپنی طرف متوجہ کیا ہے ؛ کبھی چٹکی سے کبھی ٹیک ٹھاک ٹہوکے سے۔ واقعہ یہ ہے کہ بعض اوقات شاعری خاموش نہیں رہ سکتی، لہٰذا شاعر کو اکساتی ہے کہ اٹھو مجھے لکھو، ’’ابریشم‘‘ ایسی ہی شاعری پر مشتمل ہے ۔ تاہم یہ کتاب بتاتی ہے کہ نرم لہجے کی تاثیر گہری اور دیرپا ہوتی ہے اور دھیمی آوازیں بھی دور تک سنی جاتی ہیں اس باز گشت کی طرح جو پہاڑوں کے درمیان گونجتی ہے اور محبت کے اظہار جیسی ، جسے سلمان باسط نے پہاڑی راستے سے تشبیہ دی ہے۔
    (اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد میں ، زاویہ کے زیر اہتمام سلمان باسط کے شعری مجموعے ’ابریشم‘ کی تقریب میں پڑھی گئی تحریر)
    ۔۔۔

  3. Rated 5 out of 5

    admin – June 19, 2026

    ابریشم از سلمان باسط
    سلمان باسط صاحب کا دوسرا شعری مجموعہ ہے جو کم و بیش ۴۰ سال کے بعد منظر عام پر آیا ہے ، اس میں ۶۶نظمیں ۶۱غزلیں اور ۲۶ متفرق اشعار ہیں اس سے اس کے تنوع کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن سب سے پہلے جو بات دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ بھی اپنے مجموعے کاآغاز تقدیسی اشعار سے کرتے ہیں لیکن یہ نظمیں اور بالخصوص منقبت پر مبنی نظمیں اس اعتبار سے منفرد ہیں کہ وہ موضوع کے اعتبار سے روایتی ہونے کے باوجود روایت کی تکرار نہیں کرتیں بلکہ نئے زاویۂ اظہار کی جستجو کرتی ہیں۔ ’’لا تثریب علیکم الیوم ‘‘ اپنی معنوی جہتوں کے باعث الگ شناخت رکھتی ہے، ’’تذبذبِ ‘‘کربلا کے کرب سے متعلق محض تاریخی ابہام کا بیان نہیں بلکہ داخلی کشمکش کی علامت بن جاتی ہے، ’’محمدؐ کا آخری خطبہ‘‘ اپنے فکری تناظر میں گہرا تاثر چھوڑتی ہے، اگرچہ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ اسلم انصاری صاحب کی ’’گوتم کا آخری وعظ‘‘سے متاثر ہو کر کہی گئی ہے لیکن معنوی اعتبار سے اس کا اینٹی تھیسز ہے ۔اسی طرح ’’رائیگانی‘‘ میں بھی قاری کو سورۂ رحمٰن کی معنوی بازگشت کا احساس ہوتا ہے، لیکن شاعر محض استفادہ نہیں کرتا بلکہ اپنے تخلیقی تجربے سے اسے نئی جہت عطا کرتا ہے۔
    سلمان باسط نے اپنے اس مجموعے کا نام ’’ابریشم ‘‘ رکھا ہے اور سر ورق بھی اس سے میل کھاتا ہے ۔ ابریشم کی خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنی نرمی ، نفاست اور نازکی سے پہچانا جاتا ہے۔ سلمان باسط کی شاعری بھی ایسی ہی ہے۔ اس میں چیخ نہیں، سرگوشی ہے؛ خطابت نہیں، مکالمہ ہے؛ شور نہیں، ایک دھیمی آنچ ہے جو آہستہ آہستہ قاری کے اندر اترتی چلی جاتی ہے۔ اس مجموعے کا عنوان محض ایک نام نہیں بلکہ شاعر کی شعری کائنات کی کلید ہے ایسی کائنات جس کا ایک ایک شعر کئی سمتوں میں کھلتا ہے اور پھر کھلتا چلا جاتا ہے اور پھر اس سے جڑی منظر نگاری اس درجہ مؤثر ہے کہ قاری محض منظر کا مشاہدہ نہیں کرتا بلکہ اس میں شریک ہو جاتا ہے۔
    ’’ابریشم‘‘ کا سب سے نمایاں موضوع وقت اور اس سے جڑی یادیں ہیں ۔ یادیں سلمان باسط کے وجود کا ایک زندہ اور متحرک حصہ ہیں جو کسی جامد تصویر کی طرح محفوظ نہیں رہتیں، وہ سانس لیتی ہیں؛ بولتی ہیں اور وقتاً فوقتاً حال میں واپس آ کر زندگی کو نئے معنی عطا کرتی ہیں۔ استاد ہوں یا دوست، گلیاں ہوں یا موسم، چہرے ہوں یا آوازیں، شاعر ان سب کو اس محبت سے لفظوں میں ڈھالتا ہے کہ ان کا نوسٹلجیا محض ذاتی تجربہ نہیں رہتا بلکہ ایک اجتماعی احساس میں ڈھل جاتا ہے، جہاں ہر شخص اپنی گم شدہ دنیا کا کوئی نہ کوئی سرا پا لیتا ہے۔
    آج بھی میں نے یادوں کی الماری کھولی̸ سامنے والے شیلف میں سب سامان پڑا تھا ̸ ست رنگے ریشم کے دھاگے ̸ الجھے سلجھے رشتوں کی رنگین قبائیں̸کڑوے اور کسیلے کچھ بے درد رویے̸ الھڑ سپنے̸ قسمت کی پتھریلی تختی پر لکھی انمٹ تعبیریں̸ اور کسی کے ہجر کی گٹھڑی̸ باہر سب سامان نکالا̸ جھاڑا پونچھا̸ پھر رکھ ڈالا̸ آنکھ میں جگنو جب چمکیں گے̸ پلکوں پر تارے دمکیں گے̸ یہ الماری تب کھولوں گا
    یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ’’ابریشم‘‘ انسانی رویوں کی تلخی اور شیرینی، دونوں کو بڑی دیانت داری سے پیش کرتی ہے۔ درونِ ذات پنپنے والی خاموش کیفیات ہوں، محبت کی لطیف ساعتیں ہوں یا زندگی کے پیچیدہ جذبات، شاعر ان سب کو غیر معمولی حساسیت کے ساتھ لفظ عطا کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی شاعری صرف ذاتی احساسات تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس میں واضح سماجی اور عصری شعور بھی موجود ہے،مثلاً:
    مسند پہ فقط شخص نیا بیٹھ گیا ہے دستار بھی پوشاک بھی خلعت بھی وہی ہے
    یہ دنیا چند لوگوں کی زمانہ چند لوگوں کا یہاں کے سب وسائل پر ہے قبضہ چند لوگوں کا
    یہ سب کردار، سب کٹھ پتلیاں پردے سے آگے ہیں پس پردہ ہے یہ سارا تماشا چند لوگوں کاٍ
    عشق اس مجموعے کا دوسرا نمایاں موضوع ہے۔ فراق، چشمِ نم، دیدارِ یار اور زخمِ تازہ جیسے استعاروں میں محبت کی تکالیف پوری شدت سے جلوہ گر ہیں، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ کہیں بھی پچھتاوے کا احساس نہیں ملتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کے نزدیک محبت کے دکھ بھی ایک نعمت ہیں، کیوں کہ انھی کے وسیلے سے انسان اپنی ذات کی گہرائیوں تک پہنچتا ہے۔ اس شاعری میں محرومی سے زیادہ محبتوں کی روشنی کا عکس دکھائی دیتا ہے، گویا حاصلِ سفر، سفر کی تمام صعوبتوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔نظم’’ سانحہ ‘‘ دیکھیے:
    جانے کیا بات تھی ̸ حجلۂ دل میں بھڑکی ہوئی آگ تھی ̸ درد کی آنچ سے جل رہا تھا ̸ مرے خواب زاروں کا سارا جہاں ̸ بے کلی کے شراروں سے اٹھتا دھواں ̸ روح کی وادیوں میں اترتے ہوئے ̸ کس قدر سرد تھا ̸ ٹمٹماتی ہوئی آرزو کے دیے کا بدن سرد تھا ̸ ہجر جوبن پہ تھا ̸ کاسنی، چمپئی، سرخ رو قرمزی ̸ غم کے پھولوں پہ کیسی بہار آئی تھی ̸ ان کی مدہوش کن سی مہک سے معطر ̸ مرے شوق کی ذات تھی ̸ جانے کیا بات تھی
    ’’ابریشم‘‘ کے توسط سے سلمان باسط کے بارے میں دو دل چسپ باتوں سے بھی آگاہی ملتی ہے ۔ پہلی دل چسپ بات یہ ہے کہ جب تک کوئی الگ سے نہ بتائے، ان کی شاعری پڑھ کر احساس ہی نہیں ہوتا کہ شاعر نے عمر کا ایک حصہ بیرونِ ملک بھی گزارا ہے ۔کیوں ؟ کیوں کہ گہرے سبز درختوں میں کوئل کی کو کو ، چڑیوں کی چہکار، پپیہے کی گھایل پی ہو، ملہار، پتوں کی بجتی پازیب ، دھند میں لپٹے پیڑ جیسے اپنی مٹی اور تہذیب و ثقافت سے جڑے استعارے اور مناظر ان کی شاعری میں بکثرت ملتے ہیں ۔ ان کی تخلیقات میں اپنی مٹی کی خوشبو اس شدت سے رچی بسی ہے کہ فاصلے بے معنی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اور جب فاصلے بے معنی ہوجائیں پھر شاعر کا وطن کسی جغرافیے کا پابند نہیں رہتا؛ ان کی یاد اور حافظے کا حصہ بن جاتا ہے اور حافظہ تو کبھی ہجرت کرتا ہی نہیں اسی لیے ان سے کہلواتا ہے:
    جہاں میں تھا وہاں ہر پل عجب ہیجان رہتا تھا میں لوٹ آیا کہ میرے دل میں پاکستان رہتا تھا
    دوسرا دل چسپ امر یہ ہے کہ تقریباً چوالیس برس بعد شائع ہونے والے اس دوسرے شعری مجموعے میں بھی جذبات کی حدت اور تازگی برقرار ہے۔ سلمان باسط خود اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے حصے میں ہمیشہ بہت محبتیں آئیں اور رومان پرور ساعتیں ان کا سرمایہ رہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں آج بھی کالج کے زمانے جیسی وارفتگی، معصومیت اور عشق کی لطیف آنچ محسوس ہوتی ہے۔ یہ تازگی محض یادوں کی بازیافت نہیں بلکہ ایک ایسی حساس طبیعت کی علامت ہے جس پر انھوں نے وقت کی گرد جمنے نہیں دی۔’’ تم آجاؤ‘‘، ’’آخری میٹنگ‘‘،’’ کیسی لگتی ہو‘‘،’’مجھے آواز مت دینا‘‘،’’مجھے تم سے محبت ہے‘‘ جیسی نظمیں اس بات کے اثبات میں دیکھی جا سکتی ہیں یا پھر ان کی غزل کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
    اس نے پوچھا یہ بتلاؤ کیا ہے عمر تمھاری میں بولا بس اتنی جتنی تیرے ساتھ گزاری
    میں کارگاہ محبت میں کب سے بیٹھا ہوں بلا لیا ہے جو مزدور کوئی کام بھی دے
    بھولا ہوا تھا کام مجھے یاد آگیا وہ شخص آج شام مجھے یاد آگیا
    یہ سچ ہے ترے ہجر کی افتاد سے پہلے میں ایسا نہیں تھا ؛بخدا ایسا نہیں تھا
    سلمان باسط کے ہاں جذبے کی یہ صداقت نمایاں ہے، لیکن ان کے تخلیقی سفر کا ایک اور قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ وہ شاعری کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں بناتے بلکہ کہیں نہ کہیں اس کے ذریعے نظم کی تہذیب و ترتیب کی تربیت بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ’’ نظم کا پلو مت سرکاؤ‘‘ جیسی نظم اسی سلسلے کی ایک بامعنی مثال ہے، جہاں نصیحت خطابت میں تبدیل نہیں ہوتی بلکہ شعر کی جمالیات میں ڈھل کر قاری کے دل تک پہنچتی ہے۔
    موضوعات کے ساتھ ساتھ ’’ابریشم‘‘ کی زبان بھی لائقِ اعتنا ہے کہ کسی شعری مجموعے کی اصل پہچان صرف اس کے موضوعات ہی نہیں ہوتے بلکہ الفاظ کی بندش اور لہجہ بھی اہم ہوتے ہیں ۔ شاعرِ ابریشم کی ایک خوبی اردو زبان کی وہ سلاست، چاشنی اور روانی ہے جو قاری کو ایک بار نہیں بلکہ بار بار پڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ زبان میں نہ تصنع ہے، نہ غیر ضروری لفاظی ، بلکہ ایک بہاؤ ہے ۔پھر ایک اور قابلِ توجہ خصوصیت سنسکرت الاصل لفظیات کا نہایت فطری استعمال ہے۔ سلمان باسط نے ان الفاظ کو اس خوبی سے اردو میں سمویا ہے کہ نہ روانی متاثر ہوتی ہے اور نہ اجنبیت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔’’امر سمے کی کتھا‘‘ جیسی نظمیں اس لسانی مہارت کی عمدہ مثال ہیں، جہاں مختلف تہذیبی اور لسانی روایتیں ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جاتی ہیں کہ زبان کی وحدت برقرار رہتی ہے؛ پڑھتے رہیے اور سر دھنتے رہیے:
    تم کون دشا سے آئی ہو مجھے اتنی بات بتاؤ ̸ میگھا نینی ہو یا روپ متی یہ الجھن تو سلجھاؤ ̸ کس سادھو، سنت ، گیانی سے یہ تم نے پایا بھید ̸ اک منتر پھونک کے کر دینا من بھیتر گہرا چھید ̸ پھر کاٹ کے چِلے ٹیلوں پر میں ڈھونڈوں انت گیان ̸ اب کیسے چھیڑوں عشق مرلّیا، کون لگائے تان ̸ یہ کس سوامی سے سیکھا ناری من کر لینا رام ̸ چھوڑو سارے محل دو محلے من میں کرو بسرام ̸ یہ کلا کہاں سے پائی ہے بھلا کس جوگی کے دوار ̸ باہر شیتل روپ نہارے من میں سلگے نار ̸ وردان کی سندر کوملتا، یہ شبد کا نرمل روپ ̸ سورج کے کورے پنے پر یہ دھیان کی اُجلی دھوپ ̸ کن بھاؤ ناؤں کا اکتارہ مری روح میں بجتا جائے ̸ ذرا دیکھ کھڑا ہوں قرنوں سے ترے در پر سیس نوائے ̸ کس وصل کے بھاگ میں لکھے تھے ، کس رُت میں پھول کھلے ̸ کن جنموں کا سنجوگ تھا ، کس یُگ میں آن ملے
    غرض کہ ’’ابریشم‘‘ محض ایک شعری مجموعہ نہیں، احساس، یاد، محبت اور امید کے نہایت نرم مگر مضبوط دھاگوں سے بُنا ہوا ایک ایسا تانا بانا ہے جس میں ہر قاری کو اپنی زندگی کا کوئی نہ کوئی رنگ ضرور دکھائی دیتا ہے۔ اس میں اپنی مٹی کی خوشبو بھی ہے، ہجرت کی خاموش اداسی بھی، عشق کی تمازت بھی ہے اور زندگی کے تلخ تجربات سے کشید کی ہوئی ایک عمیق بصیرت بھی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ سلمان باسط کی شاعری قاری کو ناامیدی کے اندھیروں میں تنہا نہیں چھوڑتی بلکہ ہر دکھ، ہر محرومی اور ہر رائیگانی کے بعد کہیں نہ کہیں امید کا ایک ایسا دیا روشن رکھتی ہے، جس کی ہمیں اشد ضرورت ہے۔
    ڈاکٹر بی بی امینہ

Add a review Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shipping & Delivery

Related products

-8%
yasir publications
Compare
Quick view
Add to wishlist
Add to cart

تیرے دل میں

Catalogue, Yasir Publications
₨ 1,300.00 ₨ 1,200.00
-13%
yasir publications
yasir publications
Compare
Quick view
Add to wishlist
Add to cart

ضبط غم

Catalogue, Yasir Publications
₨ 1,150.00 ₨ 1,000.00
-23%
Compare
Quick view
Add to wishlist
Add to cart

کھلے دریچے

Catalogue, Shop Books, Yasir Publications
₨ 650.00 ₨ 500.00
-11%
yasir publications
Compare
Quick view
Add to wishlist
Add to cart

دیکھ لیا دبئی

Catalogue, Yasir Publications
₨ 900.00 ₨ 800.00
-26%
Compare
Quick view
Add to wishlist
Add to cart

ناول:تیسری آنکھ

Catalogue, Yasir Publications
₨ 1,550.00 ₨ 1,150.00
-24%Hot
Compare
Quick view
Add to wishlist
Add to cart

ارشد شریف کی شہادت کے محرکات کیا تھے

Catalogue, Yasir Publications
₨ 790.00 ₨ 600.00
-20%Hot
Compare
Quick view
Add to wishlist
Add to cart

وینٹی لیٹر پر پڑی یادیں

Catalogue, Shop Books, Yasir Publications
₨ 750.00 ₨ 600.00
-20%
Compare
Quick view
Add to wishlist
Add to cart

استدعائے عشق

Catalogue, Shop Books, Yasir Publications
₨ 750.00 ₨ 600.00

Yasir Publications

  • Number +92 324 4401019
  • Email     contact@yasirpublications.com
  • Address  Yasir Publications Model Town Lahore

Importent Pages

  • Home
  • Shop
  • Contact us
  • About us

Usefull Links

How To Pay
how to order
Delivery Charges
Refund Policy
Facebook Whatsapp
Start typing to see products you are looking for.
Need Help?

اگر آپ کی مطلوبہ کتاب ہماری ویب سائیٹ پر نہیں موجود تو براہ مہربانی ہمارے واٹس ایپ نمبر 0324 4401019 پر رابطہ کریں- شکریہ Dismiss

Shop
Wishlist
0 items Cart
My account